جین زی اور ہماری ذمہ داریاں


جین زی اور ہماری ذمہ داریاں

محمدداؤدالرحمن علی

اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور یہی اولاد کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے۔ ہر والدین اپنی اولاد میں اپنا کل دیکھتے ہیں، اپنے بڑھاپے کا سہارا تلاش کرتے ہیں، اور یہی بچے آگے چل کر معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت درست خطوط پر کی جائے تو ایک صالح، بااخلاق اور مضبوط معاشرہ تشکیل پاتا ہے، لیکن اگر تربیت میں غفلت برتی جائے تو یہی اولاد معاشرے کے بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

بچپن انسان کی زندگی کا سب سے حساس اور اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی دور میں بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر اس وقت اس کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت درست انداز میں کی جائے تو وہ زندگی بھر ان اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس مرحلے میں کوتاہی ہو جائے تو بعد میں اصلاح مشکل ہو جاتی ہے، اور اس کے اثرات نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔

آج کا دور تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کا دور ہے، جہاں میڈیا۔خاص طور پر سوشل اور الیکٹرانک میڈیانئی نسل کی سوچ، عادات اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس اثر کا بڑا حصہ منفی ہے۔ فحاشی، عریانیت، اور بے حیائی کو ’’جدیدیت‘‘کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل، جسے آج کل ’’جین زی‘‘ کہا جاتا ہے، ان رجحانات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔

یہ نسل اپنی شناخت کو جدیدیت، آزادی اور ’’خود اظہار‘‘ کے نام پر ایسے راستوں پر لے جا رہی ہے جو نہ صرف دینی اقدار بلکہ فطری اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ خصوصاً ایک تشویشناک پہلو یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ صنف نازک کی مشابہت اختیار کرنا یا اس کے انداز اپنانا بعض نوجوانوں کے لیے فخر کی بات بن گیا ہے۔ لڑکوں کا لڑکیوں جیسا لباس، انداز اور طرزِ زندگی اپنانا اور اسے جدیدیت یا ’’ٹرینڈ‘‘ سمجھنا درحقیقت فطرت سے دوری کی علامت ہے۔

حالیہ عید کے موقع پر بھی سوشل میڈیا پر ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جہاں بعض نوجوانوں نے محض تفریح یا ٹرینڈ کے نام پر صنفی حدود کو نظرانداز کیا۔ مہندی لگانا، لڑکیوں جیسے انداز اپنانا، اور اسے فخر کے ساتھ ’’جین زی کلچر‘‘ کے طور پر پیش کرنا ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ عید جو کہ خوشی، شکر اور سادگی کا پیغام دیتی ہے، اسے بھی نمائش اور غیر سنجیدہ رجحانات کی نذر کر دیا گیا۔

اسلام نے مرد اور عورت یعنی صنف نازک دونوں کو ایک خاص وقار، حدود اور ذمہ داریاں دی ہیں۔ ہر صنف کی اپنی خوبصورتی اور پہچان ہے، اور اسی میں اس کی عزت اور بھلائی ہے۔ جب انسان اس فطری ترتیب سے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے تو نہ صرف اپنی شناخت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے۔

اسلام نے بچوں کی تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًاْ۔‘‘

’’ اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘(سورۃ التحریم، آیت 6)

اسی طرح سورۃ لقمان میں حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ‘‘

’’ اے میرے بیٹے! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔‘‘( سورۃ لقمان، آیات 16 تا 19)

احادیثِ مبارکہ میں بھی اس پر خاص زور دیا گیا ہے:

’’ما نحل والدٌ ولدَه أفضل من أدب حسن‘‘

’’ کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر تحفہ نہیں دے سکتا کہ اسے اچھے آداب سکھائے۔‘‘( جامع ترمذی، حدیث نمبر 1952)

’’كلكم راعٍ وكلكم مسؤول عن رعيته‘‘

’’ تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘( صحیح بخاری، حدیث نمبر 893، صحیح مسلم، حدیث نمبر 1829)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

’’أكرموا أولادكم وأحسنوا أدبهم۔‘‘

’’اپنی اولاد کی عزت کرو اور انہیں اچھا ادب سکھاؤ۔‘‘(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3671)

یہ تمام تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اولاد کی تربیت محض ایک دنیاوی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے، جس کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔

آج اگر ہم اپنی اولاد کو کھانے پینے کے آداب، لباس پہننے کے طریقے، اور دنیا میں کامیاب ہونے کے گر سکھا سکتے ہیں تو کیا ہم انہیں آخرت کی کامیابی کے اصول نہیں سکھا سکتے؟ کیا ہم انہیں نماز، سچائی، حیا اور احترامِ انسانیت کی تعلیم نہیں دے سکتے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور والدین اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔ اپنی اولاد کی تربیت کو اولین ترجیح دیں، ان کی صحبت، مصروفیات اور آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، اور سب سے بڑھ کر خود ان کے لیے ایک عملی نمونہ بنیں۔ کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔

اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو آنے والا وقت ہمارے لیے سوالیہ نشان بن جائے گا۔ ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جو اپنی شناخت، اپنی اقدار اور اپنے مقصد سے بے خبر ہوگی۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم صرف ’’جین زی‘‘ بنانے کے بجائے ایک باکردار، باشعور اور دین سے جڑی ہوئی نسل کی تعمیر کریں کیونکہ یہی نسل کل ہمارے معاشرے کی اصل پہچان ہوگی۔


 

0 تبصرے